ابنا: پاکستان کی شیعہ اسلامی تحریک کی طرف سے پارلیمانی انتخابات میں شرکت کے اعلان سے پاکستان کے شیعوں کے سیاسی تحرک اور جد وجہدکا پتہ چلتا ہے ۔ شیعہ تحریک اسلامی پارٹی کے سربراہ اور شیعہ علماء پاکستان کونسل کے سرپرست علامہ سید ساجد علی نقوی نے منگل کے روز کراچی میں ایک پریس کانفرنس خطاب کرتے ہوئے اعلان کیا کہ ان کی پارٹی پاکستان میں ہونے والے پارلمانی انتخابات میں فعال طورپر شرکت کرے گی ۔پاکستانی حکام کے مطابق پاکستان میں پارلمانی انتخابات پندرہ اپریل تک منعقد ہوں گے ۔پاکستان کے آئین کے مطابق پارلمانی انتخابات سے پہلے پاکستان کی صوبائی اور قومی پارلمنٹوں کوتحلیل کرکےایک عبوری حکومت قائم کردی جاتی ہے ۔ اسی لئے علامہ سید ساجد نقوی نے پاکستان میں منصفانہ اور صاف وشفاف انتخابات کے انعقاد اور عبوری حکومت کی تشکیل پر زور دیا اور تاکید کی کہ پاکستان کی تمام پارٹیاں حکومت کے ساتھ مل کر قومی مفادات کی بنیاد پر صداقت ووفاداری ، خود مختاری اور ارضی سالمیت کے تحفظ کے لئے ایک عبوری حکومت تشکیل دیں اور مقررہ وقت پر انتخابات کرائیں ۔ علامہ ساجد نقوی نے قانون پر عمل درآمد نہ ہونے اور پاکستان میں امن کی بد ترین صورت حال کے پیش نظر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت دہشت گردانہ اقدامات کے مقابلے میں مذھبی ،علمی شخصیات نیزعام لوگوں کوجانی تحفظ فراہم نہیں ناکام رہی ہے ۔ علامہ ساجد نقوی نے کہاکہ ملک میں دہشت گردانہ کاروائیاں بڑھ گئی ہیں شیعوں کو ختم کرنے کے لئے کراچی ،کویٹہ اور پشاور میں ٹارگٹ کلنگ اور فرقہ وارانہ منصوبہ بند قتل اور شیعوں کو امن فراہم کرنے میں حکومت اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی کمزور کارکردگی کا نتیجہ ہے ۔ علامہ ساجد نقوی نے صوبائی تحریک جعفریہ شیعہ پاکستان کے اعلی رکن سے کہا کہ وہ آیندہ ہونے والے پارلمانی انتخابات کے بارے میں تحریک اور شیعہ علماء کونسل کی سیاسی سرگرمیوں کے بارے میں ایک جامع رپورٹ پیش کریں ۔ شیعوں پر ہونے والی تمام تر دہشت گردانہ کاروائیاں اور ان کے قتل عام کے پیش نظر سیاسی مبصرین کی نظر میں پاکستان کے سیاسی میدان میں تجربہ کار شیعہ سیاستدانوں کے آنے سے ان کے حقوق پامال ہونے سے رک سکتے ہیں ۔ اس نظریئے کے پیش نظر پاکستان کی اٹھارہ کروڑ کی آبادی میں شیعوں کی آبادی بیس فیصد سے زیادہ ہے اور ان کے اندرانتخابات اور سیاسی میدان میں حاضر ہونے کی صلاحیت بہت زیادہ پائي جاتی ہے ۔البتہ اس کام کے لئے شیعہ گروہوں کے درمیان اتحاد کی سخت ضرورت ہے ۔ہندوستان میں مسلمانوں سے ووٹ لینے کے لئے اور پاکستان میں شیعوں سے ووٹ لینے کے لئے ان کے حق میں نعرے لگائے جاتے ہیں لیکن انتخابات کے بعد عملی طورپر انھیں فراموش کریاجاتا ہے نہ ہندوستان میں مسلمانوں کے مطالبات پر توجہ دی جاتی ہے اور نہ پاکستان میں شیعوں کے مطالبات پورے کئے جاتے ہیں ۔ بنابر ایں سیاسی مبصرین کی نظر میں اگر شیعہ پاکستان کے سیاسی میدان میں اپنے اتحاد کو مضبوط کرلیں اور عملی طور پر خود کو مضبوط ومستحکم کرلیں تو وہ اپنے حقوق اور مطالبات کو منوانے میں ضرور کا میابی ہوں گے ۔ پاکستان میں انتخابات کے بارے میں حکومت مخالف تمام پارٹیوں کا نظریہ مشترک ہے جو باہمی تعاون کے لئے مناسب ہوسکتاہے ۔اس سلسلے میں حکومت مخالف اصل ترین پارٹی مسلم نون کے رہنما محمد نواز شریف نے انتخابات کو تاخیر سے منعقد کرانے کی تشویش کا اظہار کیا ہے جس سے پاکستان کی تمام سیاسی پارٹیاں تشویش میں مبتلا ہوگئی ہيں ۔ایسی حالت میں پاکستان کی تمام سیاسی پارٹیوں نے انتخابات کے نزدیک ہونے کے وقت کو دیکھتے ہوئے اپنی سیاسی اور پارٹی سرگرمیوں میں اضافہ کردیا ہے ۔ کہا جاتا ہے کہ پندرہ مارچ تک قومی اور صوبائی پارلیمنٹوں کی تحلیل کے بعد پاکستان کی تمام سیاسی پارٹیوں کی سرگرمیاں شروع ہوجائیں گی نیز شیعہ پارٹیاں بھی اس موقع سے ضرور مناسب فائدہ اٹھائیں گی اور سرگرم عمل ہوں گی
5 فروری 2013 - 20:30
News ID: 388538
پاکستان کی شیعہ اسلامی تحریک کی طرف سے پارلیمانی انتخابات میں شرکت کے اعلان سے پاکستان کے شیعوں کے سیاسی تحرک اور جد وجہد شروع ہو گئی۔